ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دلت جوڑے نے فوجی بیٹے کے قتل پر مانگا انصاف

دلت جوڑے نے فوجی بیٹے کے قتل پر مانگا انصاف

Sat, 15 Oct 2016 12:18:04    S.O. News Service

احمد آباد، 14؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)آج سے 6 سال پہلے سریندرنگر ضلع کے اپنے گاؤں میں اونچی ذات کے لوگوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر مارے گئے ہندوستانی فوج کے جوان کے والدین انصاف کی مانگ کو لے کر گاندھی نگر میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔مقامی عدالت کی جانب سے ثبوتوں کی عدم موجودگی میں ملزمان کو بری کر دئے جانے کے بعد انہوں نے ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔سریندرگر ضلع کے کراڑی گاؤں کے دلت جوڑے جہابھائی راٹھور(66)اور ان کی بیوی جیٹھی بین(65)گزشتہ دو ہفتے سے ریاست کے دارالحکومت میں ستیہ گرہ چھاؤنی میں غیر معینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔یہ جوڑا اپنے بیٹے دنیش راٹھور کے سال 2010میں کئے گئے قتل کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہا ہے۔دلت حقوق کی تنظیم ’’پرتی رودھ ‘‘کے کنوینر راجوبھائی سولنکی نے کہا کہ دنیش کو فوج میں بہادری کے لئے چار ایوارڈ ملے تھے اور وہ جموں و کشمیر میں تعینات تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک بہادر سپاہی تھااور چار بہادری کا تمغہ جیتنے کے بعد اسے پرموشن دی گئی تھی۔پروموشن کے بعد جب وہ حیدرآباد میں تربیت لے رہاتھاتب2010ء میں وہ سریندر کے سایلا تعلقہ میں واقع اپنے کراڈی گاؤں میں آیا تھا،تب گاؤں میں اونچی ذات کاٹھی-دربار کے نوجوانوں کے ساتھ اس کی کہا سنی ہو گئی تھی۔سولنکی نے کہا کہ راٹھور نے ملزمان کو پنچایت دفتر کے باہرجواکھیلنے کے لئے ڈانٹتے ہوئے نازیبا زبان کا استعمال کیا،چونکہ راٹھور ایک دلت تھا، اس لئے اونچی ذات کے نوجوانوں کو یہ پسند نہیں آیا اور انہوں نے اسے سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا۔اگلے دن ملزم مبینہ طور پر فوجی کے گھر میں گھس گئے اور انہوں نے اس پر انتہائی قریب سے 12بور کی بندوق سے گولی چلا کر اس کا قتل کر دیا۔سولنکی کے مطابق اگرچہ اس وقت پولیس نے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا لیکن سال 2014میں ایک مقامی عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی میں انہیں بری کر دیا اور وہ جیل سے باہر آ گئے تھے۔جوڑے نے الزام لگایا کہ پولیس کی تحقیقات جانبدارانہ ہے۔


Share: